ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / کْولنگ ٹیکنالوجی میں اہم اختراعات کے تین ملین امریکی ڈالر انعام کا اعلان 

کْولنگ ٹیکنالوجی میں اہم اختراعات کے تین ملین امریکی ڈالر انعام کا اعلان 

Tue, 13 Nov 2018 02:30:56    S.O. News Service

نئی دہلی:12/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آج نئی دہلی میں دو روزہ گلوبل کْولنگ انوویشن سمٹ کے افتتاحی اجلاس کے دوران معیاری روم ایئر کنڈیشننگ(آر اے سی)کے مقابلے میں پانچ گنا کم ماحولیاتی اثرات کی حامل رہائشی کولنگ ٹیکنالوجی میں اختراع اور ترقی کو ترغیبات فراہم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی مسابقہ گلوبل کولنگ پرائز کا اعلان کیا گیا ہے۔اس گلوبل کولنگ پرائز کو ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈٹیکنالوجی اور اس کے شراکت دار اداروں ،بجلی کی وزارت، بیورو آف انرجی ایفیشئنسی اور ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے ذریعے حکومت ہندکے مشن انوویشن (اختراعی مشن) کے ذریعے تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ اس کا انتظام و انصرام کولنگ سے متعلق سرکردہ تحقیقی اداروں راکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ(آر ایم آئی)، کنزرویشن ایکس لیبس، الائنس فار این انرجی ایفیشئنٹ اکانومی(اے ای ای ای)اور سی ای پی ٹی یونیورسٹی کے ذریعے کیا جائے گا۔یہ اتحادی ادارے اہم ٹیکنالوجیوں کی ترقی اور تجارت کاری میں امداد فراہم کریں گے۔اس کو پہلے ہندوستان میں عوامی سطح پر اختیار کیا جائے گا اور اس کے بعد اس کو پوری دنیا میں توسیع دی جائے گی۔فاتح ٹیکنالوجی سال 2050ء4 تک سی او2کے مساوی 100 گیگا ٹن (جی ٹی)کاربن اخراج کو روک سکتی ہے اور 2100تک 0.5ڈگری سیلسیس عالمی حرارت کو کم کرنے کی راہ پر دنیا کو لاسکتی ہے۔گلوبل کولنگ انوویشن سمٹ کا افتتاح کرتے ہوئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہاہے کہ’’عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی حرارت دنیا کی حکومتوں کے لئے لازمی بناتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی صحت اور خوشحالی کے لیے حرارت سے آرام اور نجات فراہم کریں۔مزید برا?ں عالمی حرارت سے شہریوں کو یہ ا?رام صرف ماحولیاتی طریقے سے فراہم کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے توازن قائم رکھنا نہایت مشکل امر اور چیلنج سے بھرپور ہے۔وسیع پیمانے پر کولنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے کولنگ ٹیکنالوجی میں بہتری لانے سے ہی صرف مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوسکتے ہیں، لہٰذا ضروری ہوجاتا ہے کہ سائنٹفک اور ٹیکنالوجی برادری کو چیلنج پیش کیا جائے کہ وہ اس سلسلے میں اہم سنگ میل قائم کرنے والی اختراعات فراہم کرے‘‘۔گلوبل کولنگ پرائز کے معماروں اور دیگرشراکت داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ حکومت آلودگی سے پاک اختراعات کے لیے مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ا?لودگی سے پاک اختراعات کو مزید توسیع دی جائے گی اور عوامی و نجی شراکت داری پر مبنی ماحولی نظام سے صاف ستھری توانائی پیدا کی جاسکے گی۔گلوبل کولنگ انوویشن سمٹ کے افتتاح کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر ڈاکٹر کے وجے راگھون نے کہا کہ گلوبل کولنگ پرائز کی اہم اورنادار خصوصیت یہ ہے کہ ٓلودگی سے پاک توانائی کی تحقیق و ترقی میں مصروف عمل پرائیویٹ سیکٹر کے لئے یہ عملی ماڈل فراہم کرتا ہے۔ اس موقع پر ڈپارٹمنٹ آف بایوٹیکنالوجی(ڈی بی ٹی) کے سیکریٹری ڈاکٹر رینو سوروپ نے کہا کہ‘‘یہ بالکل وہی ہے جس کے لئے اختراعی مشن تین برس قبل پیرس ماحولیاتی سربراہ کانفرنس کے موقع پر قائم کیا گیا تھا۔اس کا مقصد ماحولیات سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیوں میں جدت طرازی اور اختراع کے لئے حکومتوں ، اختراع کاروں اور پرائیویٹ سیکٹر کے دوران نئیاشتراک و تعاون قائم کرنا ہے۔گلوبل کولنگ انوویشن سمٹ کے افتتاح کے موقع پر مشن انوویشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے نائب صدر جان لاگہیڈاور راکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ میں سینئر فیلو ایان کیمپ بیل بھی موجود تھے۔انہوں نے گلوبل کولنگ پرائز شروع کرنے پر اپنے خوشی کا اظہار کیا اور اس کی قیادت کے لئے حکومت ہند کو مبارکباد دی۔دو برس تک جاری رہنے والے اس مسابقے میں تین ملین امریکی ڈالر سے زائد کی انعامی رقم دی جائے گی۔ اختراعی رہائشی کولنگ ٹیکنالوجی ڈیزائن کو ترقی دینے اور انہیں مالی تعاون فراہم کرنے کے لئے شارٹ لسٹ کی گئی 10مسابقتی ٹیکنالوجیوں میں سے ہر ایک کو 2لاکھ امریکی ڈالر کا ثانوی انعام دیا جائے گا۔فاتح ٹیکنالوجی کو اپنی ٹیکنالوجی کی ترقی اور پہلے مرحلے میں تجارت کاری کے لئے کم از کم ایک ملین امریکی ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔فی الحال دنیا بھر میں 1.2 بلین روم ایئر کنڈشننگ اکائیاں موجود ہیں۔اندازہ ہے کہ سال 2050ء تک ان اکائیوں کی تعداد بڑھ کر 4.5بلین ہوجائے گی۔صرف ہندوستان میں2050ء تک مارکیٹ میں ایک بلین سے زائد ایئر کنڈیشننگ لگے ہوں گے۔آرام دہ کولنگ سے منسلک توانائی کے صرفے سے ماحولیات پر نہایت مہلک نتائج مرتب ہوں گے اور دنیا کی آبادی کو سنگین خطرات در پیش ہوں گے۔


Share: